کاروار یکم جولائی (ایس او نیوز) گھریلو استعمال کے لئے اوسطاً 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہمی کی گروہہ جیوتی اسکیم لاگو ہونے کے ساتھ میٹروں کے نام تبدیل کرنے کے لئے ضرورت مند افراد بھاگ دوڑ میں لگ گئے ہیں۔ اور اس موقع کا فائدہ اٹھانے کے لئے ایجنٹس بھی پوری طرح تیاری کے ساتھ مصروف ہوگئے ہیں۔
اس اسکیم سے استفادہ کرنے کے لئے پہلے ایک شرط یہ لگائی گئی تھی کہ میٹر جس کے نام سے ہے وہ بقید حیات رہنا چاہیے اگر کسی ایسے شخص کے نام پر میٹر ہے جس کا انتقال ہو چکا ہے تو ایسے گھر میں رہنے والے لوگ اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لئے میٹر سے نام تبدیل کرکے اپنا نام رجسٹر کروانا ضروری ہوگیا تھا۔ چونکہ پرانے گھروں کے بجلی میٹر جس شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہیں ان میں زیادہ تر لوگ فوت ہوچکے ہوتے ہیں اس لئے نام تبدیل کروانا لازمی ہوگیا تھا اب یہ کام کروانے کے لئے لوگوں کی بھاگ دوڑ شروع ہوگئی ہے ۔ ہیسکام کے دفتر میں لوگوں کا ہجوم بڑھتا جارہا ہے۔ ایسے میں ایجنٹوں اور دلالوں نے اس کارروائی کو انجام دینے کے لئے لوگوں سے ایک ہزار سے تین ہزار روپے تک کا معاوضہ وصول کرنا شروع کیا ہے ۔
ہیسکام کے ایک افسر نے وضاحت کی ہے کہ حکومت کی طرف سے شرائط میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اب کسی گھر میں جس کے نام پر بجلی میٹر ہے وہ شخص اگر بقید حیات نہ ہو یا پھر اس گھر میں وہ شخص مقیم نہیں ہے تو اس کے خاندان کے افراد یا پھر کرایہ دار آر ٹی سی کے ساتھ حلف نامہ داخل کرکے اس سہولت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ ضروری دستاویزات کے ساتھ ہیسکام دفتر پہنچنے پر رجسٹریشن کا کام ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے جلد کام کروانے کے مقصد سے لوگ ایجنٹوں کے ذریعہ پھندے میں پھنس رہے ہیں اور ایجنٹ اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسکیم سے مستفید ہونے کے لئے رجسٹریشن کا کام 18/ جون سے شروع ہوچکا ہے اور جولائی کے مہینے سے یہ اسکیم لاگو ہوجائے گی جبکہ جولائی مہینے میں استعمال شدہ بجلی کا بل اگست میں آنے والا ہے جو اسکیم سے مستفید ہونے کے مستحق افراد کے لئے مفت ہوگا۔